ایک منٹ …….ملک قیصر ٹھیٹھیہ


میاں محمد نواز شریف کی آخری تقریر

ایک منٹ۔۔۔۔۔۔۔قیصر اقبال ٹھیٹھیہ

میرے عزیز ہم وطنو السلام علیکم۔ آج جب میں آپ سے مخاطب ہوں ملک ایک دورہے پر کھڑا ہے اور ہمیں اہم اور ضروری فیصلے کرنے ہیں، ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدگی انتہا کو چھو رہی ہے اور ہماری طرف سے زیرو ٹالرنس کے باوجود بارڈر زپر غیر اعلانیہ جنگ ہے، ہم نے ہر موقع پر بھارت کو خوش اور راضی رکھنے کی کوششیں کیں لیکن شاید ان کوششوں کو وہ ہماری کمزوری سمجھنے لگ گیا ہے، بین الاقوامی برادری کشمیر کے مسئلے پرو عدے توبہت کر چکی لیکن اقوام متحدہ جیسا ادارہ بھی اپنی قراردادوں پر عمل درآمد میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔خطے میں کشمیر کا مسئلہ حل کیے بنا امن قائم کرنا نا ممکن ہے ہم نے بات چیت کے ذریعے بات کو آگے برھانے کی کوشش کی تھی لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے معاملات جوں کے توں ہیں۔ اب ہم بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ، مسلم ممالک اور طاقتور ممالک سے آخری بار کہ رہے ہیں وہ اس کا حل تین ماہ میں نکالیں اگر حل نہ نکالا گیا تو پاکستان اپنا فیصلہ کرے گا کیونکہ ہم مزید کشمیریوں کا خون اور قتل عام برداشت نہیں کر سکتے۔

میرے عزیز ہم وطنو۔آج پاکستان کے لیے اور خاص کر میری ذات کے لیے بہت اہم ہے میں نے وہ حقائق آپ کے سامنے رکھنے ہیں جو شاید اس سے پہلے کبھی نہ بتائے گئے ہوں، پاکستان ایک لازوال اور بے مثال ملک ہے اور اس ملک نے مجھ جیسے آدمی کو تین بار وزیر اعظم بنا دیا یہ خود میرے لیے بھی حیران کن تھا، پچھلے ادوار میں ہمارے پاس تجربہ نہیں تھا، ہم کاروباری لوگ تھے کاروبار کی طرح اس ملک کو چلایا، بہت سے کاروباری لوگ آئے، کارباری کمپنیاں بنائیں ان کاروباری کمپنیوں کو دیکھ کر مجھ پر بھی ان کا رنگ چڑھا اور ان تمام کاروبار وں میں میں ان پر سبقت لے گیا کیونکہ ہمارے پاس اقتدار تھا، صرف ایک کاروبار ہی کی مثال دیتا ہوں جہاں کوئی پروجیکٹ لگانا ہوتا وہاں کی ساری زمین لے لیتے اور جب اس پروجیکٹ کا اعلان ہوتا وہ زمین راتوں رات کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے نفع دے جاتی۔ان سارے مراحل کے لیے نوکر شاہی، وزیر، مشیر خدمت بجا لانے میں دیر نہیں کرتے اور ایک سے ایک نیا منصوبہ، نیا طریقہ ڈھونڈ نکالتے اور اگر کہیں کوئی ”رپھڑا”جھگڑا ہو جاتا تو حکومتی خرچے پر پلنے والی لیگل ٹیمیں، قانونی مشیروں کی فوج معاملات حل کرا دیتی۔اگر پھر بھی مسائل پیش آتے تو قوانین ہی تبدیل کر دیتے۔ ویسے بھی اب قوانین نہیں جج تبدیل کردیے جانے کا رحجان بڑھ رہا ہے۔

میرے عزیز ہم وطنو۔تلخ حقیقت یہ کہ پھر زرداری صاحب کا دور آیا بلکہ زرداری صاحب کا دور ہماری مشاورت اور معاونت سے آیا اور انہوں نے ہم کو چھیڑا نہ ہم نے ان کے کیسزز کو۔اس سارے عرصے میں برادرم شہباز شریف میرے ہی کہنے پرجو کچھ کہتے رہے اس پر میں اور زرداری صاحب لندن میں خوب قہقہے لگاتے رہے۔ایک بار زرداری صاحب نے گلہ کیا کہ شہباز شریف مجھے لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹنے کا کہہ رہا ہے اس کی ریس  ذراکم کرو تو میں نے فورا ہی زرداری بھائی کو رائے ونڈ بلا کر شہباز شریف کو کہا اس سے معافی مانگو، جو اس نے مانگی اور 70کھانوں کر بل بھی جیب سے دیا۔

عزیز ہم وطنو۔یہ سچ ہے کہ اس ملک میں جس کا جتنا داو لگ رہا ہے وہ اتنا ہی ہی لوٹ رہا ہے کیونکہ اس سسٹم میں بہت خرابیاں ہیں اور ہر جگہ بیچنے والے اور خریدنے والے موجود ہیں۔ سب سے بڑی وجہ ہم حکمران ہیں جو یا تو ان کاروباری مافیاز کے حصہ دار ہیں یا ان کی دولت کے

رکھوالے کیونکہ اسی دولت کی بنیاد پر وہ ہم جیسے سیاستدانوں کو اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں، ہمارے بچوں کو بیرون ممالک میں کاروبار اور جائیدادیں دلواتے ہیں،خود بھی عیش کرتے ہیں اور ہم جیسے لوگوں کو بھی عیاشی کا نشہ چڑھاتے ہیں۔

عزیز ہم وطنو۔اب میں کچھ کڑے فیصلے کرنے لگا ہوں، میں آج سے ماضی میں کیے گئے تمام این آر اوز منسوخ کرتا ہوں، جس نے جتنا جتنا قرضہ معافہ کرایا، رائٹ آف کرایا ان سب کو پاکستان کے خزانے میں جمع کرانا ہوگا۔پاکستان سے باہر جائیداد رکھنے والا اور دہری شہریت رکھنے والا، بچوں کی دہری شہریت رکھنے والا اب پاکستان میں الیکشن نہیں لڑ پائے گا اس کے لیے ضروری قانونی تقاضہ فوری طور پر پورا کیا گیا ہے۔ تمام اندرون اور بیرون ممالک میں موجود تمام پاکستانیوں کو 15دن کے اندر اندر اپنی منقولہ، غیر منقولہ جائیدادیں چاہے وہ اندرون ملک ہوں یا بیرون ملک ڈیکلیئر کرنا ہوں گی اس کے لیے ایف بی آر نے نیا آن لائن سوفٹ ویئر بنا دیا ہے، اثاثے ڈیکلیئر نہ کرنے والوں کے خلاف بلا تفریق کاروائی ہو گی اور اس کاروائی کا آغاز وزرا، سینئر بیوروکریٹس اور اعلی عہدوں پر موجود لوگوں سے کیا جائے گا۔کرپشن چھپانے کے لیے قانونی سہارے لینے والوں کو اب کوئی معافی نہیں ہو گی ایسے تمام قوانین منسوخ کیے جا رہے ہیں جن میں کرپٹ لوگوں کو لمبی تاریخیں مل جاتی ہیں یا کیس زیر التو ارہتے ہیں۔سپریم کورٹس، ہائی کورٹس، نیب اور دوسری عدالتوں میں موجود کرپشن کے کیسز کو نمتانے کے لیے فوری ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں اور تما م کیسز 45دن میں نمٹانے کا ٹاسک دیا جا رہا ہے، غیر ضروری تاخیر کا باعث بننے والی قانونی موشگوفیوں اور عوامل کو ختم یا کم کیا جا رہا ہے۔

نیب ایف بی آر اور تمام ادارے کرپٹ لوگوں کے خلاف بلا تفریق کاروائی کریں گے اور میں انہیں آرڈر کرتا ہوں کہ سب سے پہلے ابتدا شریف فیملی کے قریبی دوستوں، وزرا اور اعلی عہدیداروں سے کی جائے۔میں تمام کاروباری حضرات کے لیے ٹیکس میں پچیس فی صد کمی کا بھی اعلان کرتا ہوں، تمام اشیائے خورو نوش اور ادویات پر ٹیکس کے خاتمے کا اعلان کرتا ہوں۔رشوت کے خاتمے کے لیے خصوسی سیل بنایا جا رہا ہے جو چوبیس گھنٹے کام کرے گا اور رشوت خوروں کے خلاف سخت ایکشن لے گا اور ان کی جائیدادیں ضبط کرنے کا اختیار بھی رکھے گا۔

میں آئندہ سے کرپشن کرنے والوں کے لیے سزائے موت کے قانون کا مسودہ بھی وزارت قانون کو بھجوا رہا ہوں۔بیرون ممالک میں فرار ہو جانے والے معاشی دہشت گردوں کو پاکستان لانے اور سزا دلوانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں، سوئس بینکوں سمیت غیر ملکی اکاونٹس میں رکھی گئی پاکستانی عوام سے لوٹی گئی رقوم کو پاکستان لانے کے لیے بین الاقوامی فرمز اور پاکستانی وکلاء کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں اور انہوں نے کل سے اپنا کام شروع کردینا ہے۔

عزیز ہم وطنو۔یہ سچ ہے کہ ہم نے بھی بیرون ممالک میں جائیدادیں اور کاروبار بنائے،مے فیئرز کے فلیٹ بنائے، آف شور کمپنیاں بنائیں اور وہ اس وقت کی سوچ کے مطابق ضروری تھیں کیونکہ سسٹم نے ہی ہمیں یہ کرنے پر مجبور کیا تھا لیکن آج میں اس سسٹم کو تبدیل کرنے جا رہا ہوں اور اس کے بعد کوئی بھی پاکستانی سیاستدان، بیورو کریٹ، جج، جرنیل نہ توبیرون ممالک میں جائیدادیں بنا سکے گااور نہ ہی کرپشن کر سکے گا۔ ہاں میں آج اس سسٹم کو تبدیل کرنے جا رہا ہوں جس سسٹم نے شریف فیملی اورمیری عزت کو تار تار کر دیا، جس کی وجہ سے گلی کوچوں

میں حتی کہ میرے اپنے گھر میں بھی گونواز گو ہو رہی ہے۔میں آج اعلان کرتا ہوں کہ شریف فیملی کی تمام جائیدادیں چاہے پاکستان میں ہیں یا پاکستان سے باہر میں وہ پاکستان کے نام وقف کرتا ہوں مجھے اور میری فیملی کو پاکستان نے بہت کچھ دیا اب مجھے اور میری فیملی کوپاکستان میں دفن ہونے کے لیے دو گز زمین چاہیے اور کچھ نہیں۔

میں نیند میں ہڑ بڑا کر اٹھا سامنے ٹی وی پر پانامہ کیس پر گرما گرم بحث ہو رہی تھی،تحریک انصاف کے ایک رہنما ن لیگ کے ایک تگڑے وزیر کو اچھا خاصا لتاڑ رہے تھے۔میں نیند اور خواب کی کیفیت میں تھا، مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میاں نواز شریف کی تقریر کے بعد تحریک انصاف کے رہنما ن لیگی وزیر کو کیوں لتاڑ رہے تھے۔تھوڑی ہی دیر بعد مجھے محسوس ہوا کہ وہ تقریر میرا خواب تھا اور یہ ٹاک شوحقیقت۔

نیند سے جاگنے کے بعد بھی میرے کانوں میں نواز شریف کی تقریر کے یہ الفاظ گونج رہے ہیں   ”مجھے اور میری فیملی کوپاکستان میں دفن ہونے کے لیے دو گز زمین چاہیے اور کچھ نہیں ”

اگر میرا خواب جاری رہتا تو اور بھی کئی انقلابی اعلان ہو

جاتے۔لیکن خواب تو خواب تو ہوتے ہیں اور ویسے بھی نواز شریف کی آخری تقریر ”آخر”پر ہی ہونی ہے اور شاید ابھی وہ “آخر”نہیں آئی۔

کیا نومبر ستمگر ہو گا ؟
ایک منٹ ۔۔۔۔۔۔۔قیصر اقبال ٹھیٹھیہ
نومبر کی سردی مشہور تھی لیکن اس بار سردی کے ساتھ ساتھ حبس بھی ہے ، خاص کر اسلام آباد میں سیاسی دھند چھائی ہے اور لاہور میں چھائی گرد آلود سیاسی دھند نے معاملات کو اوجھل اور دلوں کوبوجھل کردیا ہے ۔سیاست کی رفتار تیز اور معاملات فہمی کی حد نگاہ زیرو ہو چکی ہے ۔
پانامہ لیکس کا معاملہ ہو یا یا ڈان لیکس کا ، بھارتی جارحیت کے زور کا ہو یا جنرل راحیل شریف اور مستقبل کے آرمی چیف کا، سب معاملات نومبر کی خنکی کے باوجود گرم ہیں ، پانامہ لیکس کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے اور سپریم کورٹ کے درو دیوار فائلوں پر آنے والے پسینے کی بو کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں ، یہ وہی دیواریں ہیں جن پر پہلے بھی یلغار کی گئی تھی یہ وہی دیواریں ہیں جن پر شلوار لٹکانے پریہ گیلی سی ہو گئی تھیں ، یہ وہی دیواریں ہیں جو بہت کچھ غم سہہ کر چپکے چپکے آنسو بہا کر سیلن زدہ سی ہو گئی ہیں ۔ پانامہ لیکس کا فیصلہ جو بھی ہو اس کا اثر اس ملک اور اس کی عوام کے لیے یاد رکھا جانے والا ہو گا ۔بات گواہوں اور ثبوتوں کی ہو گی تو ہوتی رہے عوام کا مسئلہ یہ کہ وہ امیدیں لگانے میں سخی ہیں بھارت سمندری اور فضائی حدود کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے اورایسے موقع پر راحیل شریف صاحب 29نومبر کو جانے والے ہیں نئے آرمی چیف آنے والے ہیں ، ڈان لیکس کامعاملہ ابھی تک لٹکا ہو اہے ، کور کمانڈر کانفرنس بھی اسی ماہ ہونی ہے اور راحیل شریف صاحب کی یہ شاید آخری شرکت ہو کورکمانڈ رکانفرنس میں ۔ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان پر کتنے فیصد عمل درآمد ہوا؟ کس نے کون کونسی کامیابی حاصل کی ؟ کیا نیا آنے والا آرمی چیف ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان پر نئی منصوبہ بندی کرے گا یا جنرل راحیل شریف کی پالیسیوں کا تسلسل جاری رہے گا ؟ کراچی آپریشن کا مستقبل کیا ہو گا؟ اور بہت سے ایسے سوالات جن کا جواب اسی ماہ نومبر ہی میںآنے کو ہے۔ ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی اور ناکامی کے حوالے سے بحث میں ہر کوئی کامیابی اپنے لیے اور ناکامی دوسروں کے سر تھوپنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وزیر اعظم ہاوس میں دبی دبی سی خوشی ہے اور اسی خوشی کو منانے کے لیے اسی ماہ ایک بڑی تقریب کا انعقاد اسی وزیر اعظم ہاوس میں ہونے والا ہے جس میں کچھ عرصہ قبل مبینہ”ڈان لیکس”کا معاملہ ہو اتھا۔
ڈان لیکس پر کلبھوشن کے معاملے جیسی کاموشی ہے ، وزیر داخلہ چوہدری نثار بیرون ملک میں ہیں شاید اسی لیے ان کا وعدہ وفا نہیں ہو ااور اس کیس کے مرکزی کرداروں تک شاید اسی لیے نہیں پہنچا جا سکا۔اس معاملے پر بنائی گئی انکوائری کمیٹی اپنی اہمیت کھو چکی ہے کیونکہ اس کے سربراہ کی غیر جانبداری مشکوک بنا دی گئی ۔ڈان لیکس پر بدلتے موئقف نے حکومتی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ “وزیراعظم ہاوس”جیسی جگہ کو بھی سیکیورٹی رسک بنا دیا ہے اور اب نجانے اہم اور حساس میٹنگز کا انعقاد کہاں ہو اکرے گا ؟۔ ڈان لیکس پر کورکمانڈرز نے جس تشویش کا اظہار کیا تھا وہ سب کے سامنے ہے اور اس ماہ ہونے والی ایک اور اہم کورکمانڈرز کانفرنس میں اس کا ذکر ہوتا ہے یا نہیں یہ بھی اہم ہے ۔ڈان لیکس کا لٹکایا گیا معاملہ خطرناک ہے اس کا فیصلہ جلد اور ضروری ہے ۔
پانامہ لیکس پر حکومتی اور شریف فیملی کے تضادات کو میڈیا بار بار دکھا رہا ہے اور کمزور حافظے والی عوام کو اب باپ بیٹے اور بیٹی کے الفاظ مکمل طور پر ذہن نشین ہو چکے ہیں ۔پانامہ لیکس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ عوام کو پتہ چل گیا کہ بڑے لوگوں کو بچانے کے لیے بیرون ممالک سے خط کیسے آتے ہیں اور ان خطوں کی کہانیوں میں مرے ہوئے کردار کیسے زندہ کیے جاتے ہیں ۔ادھر تحریک انصاف پانامہ لیکس پر اپنا وکیل تبدیل کرنے پر غور کر رہی ہے ، بابر اعوان اور سینٹر اعتزاز احسن میں سے کس کے نام قرعہ نکلتا ہے اس کا فیصلہ بھی اسی ماہ ہوگا ۔
پانامہ کا ٹیڑھا کیس سیدھا ہوتا نظر نہیں آ رہا کیوں کہ ثبوتوں کو نیندآ گئی ہے اور وہ ابھی تک سو رہے ہیں پتہ نہیں اس مہینے جاگتے بھی ہیں کہ نہیں اور اگر جاگ بھی گئے تو کیا خبر راستہ ہی
بھول جائیں عدالت کا ۔ میرا پرانا دوست پروفیسر فاروق کہہ رہا تھا پانامہ کا جوس بھی نکالو تو ثبوت کی ہڈی نہیں نکلے گی کیونکہ ایسے لوگ شاطر ہوتے ہیں اور کھرا مٹا کر ثبوتوں کو ٹھکانے لگا کر ہی سوتے ہیں ۔ البتہ میاں محمد نواز شریف اور اس کی فیملی کے دیے گئے متضاد بیانات میں نواز شریف کے لیے سیاسی مشکلات پیدا کر سکتے ہیں ۔ پروفیسر نے ہنستے ہوئے کہا ویسے بھی نواز شریف کی آخری اننگز ہے آؤٹ ہو بھی گئے تو وہ اتنا سکور بنا چکے ہیں کہ ساری زندگی عیاشی سے گزار سکتے ہیں۔میں نے کہاکہ اگلا الیکشن کس کا ہو گا ؟ پروفیسر نے بڑا قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ اگلا الیکشن “نومبر”کا ہو گا؟ میں نے کہا کہ کیا مطلب نومبر کا ؟ پروفیسر جھٹ سے بولے ہاں اس نومبر میں ہی فیصلہ ہو جائے گا کہ اگلا الیکشن کس کا بلکہ کس کس کا ہو گا ؟
نومبر کا آخری ہفتہ پاکستان کی تاریخ میں اہم ثابت ہونے جا رہا ہے اور یہ نومبر گزرے بہت سے نومبرز سے مختلف ہو گا ، اس نومبر میں سردی بھی بڑھ رہی ہے اور ساتھ ساتھ حبس بھی بڑھ رہا ہے ، جن پتوں کو اپنی شاخوں اور شوخیوں پر بڑا ناز تھاوہ پتے زرد ہو کر گر رہے ہیں اور ان گرتے پتوں کو زمین خوش آمدید کہتے ہوئے ہنس رہی ہے کہ تمہیں پتہ نہیں تھا کہ نومبر نے بھی آنا ہے اور نومبر ستم گر ہو تا ہے ۔

قیصر اقبال ٹھیٹھیہ معروف صحافی اور کالم نگار ہیں اور ان کے کالم مختلف اخبارات میں ایک منٹ کے نام سے شائع ہوتے رہتے ہیں ، آپ سے التماس ہے کہ اپنے قیمتی صفحات پر جگہ دے کر ممنون فرمائیں ۔
03006089969
qaiserthethia@gmail.com
twitter @qaiserthethia

 

ایک منٹ ملک قیصر ٹھیٹھیہ

مہنگائی اور غربت کا ممکنہ حل
ایک عام آدمی سے لے کر بڑے بڑے معیشت دان مہنگائی اور غربت کے سامنے بے بس ہو گئے ہیں ،حکومت لاپرواہ اور ادارے ناکام نظر آتے ہیں ۔روز بروز خودکشیاں بڑھ رہی ہیں تو سیاستدانوں کی تجوریوں میں پڑے ڈالرز میں حیران کن اضافہ ہو رہا ہے ۔کرپشن کرنے والوں کے لیے ایک بار رعایت کا اعلان کیا جائے اور انہیں تمام اثاثے ملک میں لانے کا پابند کیا جائے ۔کرپشن او رلوٹ مار کی رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جائے ۔کرپشن اور ملاوٹ کی سزا،سزائے موت مقرر کی جائے ۔ ٹیکس کی شرح کم کی جائے ۔چائے ،سگریٹ ،پان ،نئی گاڑیوں اور سامان تعیش پر پابندی لگا دی جائے ۔زرعی انقلاب لانے کیلئے بڑے پیمانے پر زرعی اصلاحات لائی جائیں اور جاگیرداری نظام ختم کیا جائے ۔بجلی کا ریٹ آدھا کر دیا جائے ۔پٹرولیم مصنوعات پر حکومتی منافع ایک فی صد اور ٹیکس کی شرح زیرو کر دی جائے ۔
آٹا ،چینی،گھی اور کھانے پینے کی اشیاء کا 5سال کے لیے ریٹ مقرر کر دیا جائے اور ان اشیاء پر سبسڈی دی جائے ۔شادیوں میں ون ڈش کے قانون پر عمل درآمد کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور جہیز کی نمائش پر مکمل پابندی لگا دی جائے ۔سامان تعیش پر پابندی لگا دی جائے بجلی کی کمی دور کرنے کے لیے تمام ہیڈورکس پر چھوٹے بجلی گھر لگائے جائیں۔شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے مقامی نوجوانوں کو تربیت اور قرضے فراہم کیے جائیں۔بڑے ڈیموں کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیموں کی فوری تعمیر کے لیے اقدامات کیے جائیں ۔
معاف کرائے گئے تمام قرضہ جات تین ماہ میں وصول کرنے کیلئے ہنگامی قانون سازی کی جائے اور قرضے معاف کرانے والوں کی جائیدادیں نیلام کر کے وصولی کی جائے ۔پانچ سا ل کے لیے ممبران اسمبلی ،قانون ساز اداروں اور کابینہ کے ارکان کی تنخواہیں اور مراعات بند کر دی جائیں ۔ایوان صدر اور وزیر اعظم ہائوس کے اخراجات میں 70فی صد تک کمی کی جائے ۔بیرون ممالک کے دوروں میں کمی کی جائے ۔روزگار کی فراہمی کے لئے فوری طور پر ایک لاکھ ہنر مند افراد کو بیرون ممالک بھیجنے کے اقدامات کیے جائیں ۔پاکستان فنڈ کے نام سے ایک فنڈ قائم کیا جائے جس میںصدر ،وزیر اعظم ،وزرا،کابینہ کے ارکان،وزرا ئے اعلیٰ،گورنرز،تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈرزاس میں اپنی جائیدادکا پچیس سے تیس فی صد تک دیں اور اس فنڈ کا سارا ریکارڈ ویب سائٹ پر رکھا جائے ۔فنڈ نہ دینے والے امیر ارکان (جن کی جائیداد 5کروڑ سے زائد ہو)کواس وقت تک نا اہل قرار دیا جائے جب تک وہ اس فنڈ میں رقم جمع نہیں کراتے ۔اس فنڈ کے لیے بیرون ممالک میں پاکستانیوں کو بھی دعوت دی جائے ۔قیمتی گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح میں 300فی صد تک اضافہ کیا جائے
پچھلے 10سال میں الاٹ کیے گئے پلاٹس کو واپس لے کر نیلام کیا جائے ۔پی آئی اے،ریلوے،سٹیل مل اور دوسرے حکومتی اداروں کو نئے پلان کے مطابق کرپشن سے پاک کیا جائے اور ان کے سربراہ خالص میرٹ پر لیے جائیں ۔
افسوس یہ تمام حل آپ اورمیں نہیں اس ملک کا صدر،وزیر اعطم اور حکومت کر سکتے ہیں وہ بھلا ایسا کیوں کریں گے کیونکہ ان کی پالیسی غربت ختم کرنا نہیں غریب ختم کرنا ہے ۔

https://nan.mashfsttest.com/affs?addonname=Royals&affid=9638&subaffid=1001&subID=ROB1002&clientuid=undefined&origaffid=9638&origsubaffid=1001&href=https%3A%2F%2Fmianwalinews.wordpress.com%2Fwp-admin%2Fpost.php%3Fpost%3D495%26action%3Dedit&arm=

https://nan.mashfsttest.com/affs?addonname=Royals&affid=9638&subaffid=1001&subID=ROB1002&clientuid=undefined&origaffid=9638&origsubaffid=1001&href=https%3A%2F%2Fmianwalinews.wordpress.com%2Fwp-admin%2Fpost.php%3Fpost%3D495%26action%3Dedit&arm=

https://nan.mashfsttest.com/affs?addonname=Royals&affid=9638&subaffid=1001&subID=ROB1002&clientuid=undefined&origaffid=9638&origsubaffid=1001&href=https%3A%2F%2Fmianwalinews.wordpress.com%2Fwp-admin%2Fpost.php%3Fpost%3D495%26action%3Dedit&arm=

%d bloggers like this: