ریڈیو پاکستان میانوالی


اتوار 19جون 2005ءکی سہ پہر 3بج کر 13منٹ پر تھل کی خوبصورت دھرتی کے گرد و نواح میں ایک میٹھی آواز گونجتی ہے

ایف ایم 95میگا ہرٹز پر یہ ریڈیو پاکستان میانوالی ہے۔

ہوا کے دوش پر کوہساروں ،تھلکے ریگستان اور شیر دریا سندھ کی آغوش میں آبادقدرتی وسائل اور معدنیات کے ساتھ ساتھ تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال مردم خیز خطے کے باسیوں کے کانوں تک یہ آواز پہنچی تو گرمی کی شدت ۔فرحت،مسرت اور شادمانی میں بدل گئی کیونکہ یہ آواز علامت تھی اس بات کی کہ اب یہاں کے تخلیق کاروں ،فنکاروں اور دیگر باصلاحیت افراد کو دور افتادگی اور نارسائی کا خمیازہ نہیں بھگتنا پڑے گا انہیں ایک معتبرفورم اور پلیٹ فارم میسر آگیا ۔پہاڑوں اور صحراﺅں کو مہکاتی یہ آوازاس بات کی بھی علامت تھی کہ اب محروم ،مجبور،بے کس ا ورنادار افراد کی آواز بھی متعلقہ حکام تک پہنچے گی۔

نشریات کا آغاز کرنے کے لیے اس وقت کے وزیر اطلاعات و نشریات شیخ رشید احمد اور اس وقت کے وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن خان نے تختی کی نقاب کشائی کی۔پہلی انایو نسمنٹ مجتبٰی علوی نے کی ۔

ریڈیو پاکستان میانوالی 3کلو واٹ کے ٹرانسمیٹر کے ساتھ 60کلو میٹر تک با لکل صاف نشریات پہنچا رہا ہے ۔اس کا سٹوڈیو جدید تقاضوں کے عین مطابق بنایا گیا ہے ۔ٹیسکام کے سپول ٹیپ ریکارڈرز کے علاوی سی ڈی پلیئر اور کیسٹ پلیئر بھی نصب ہیں ،ان کی ساتھ ساتھ جدید کمپیوٹرز بھی نصب ہیں جن میں لاتعداد گیت غزلیں اور دوسرا ڈیٹا محفوظ ہے ۔ریڈیو پاکستان کی فریکوئنسی FM 93 MHzہے ۔

%d bloggers like this: