ڈسٹرکٹ کورٹس


میانوالی کی ضلع کچہری کو شروع سے لے کر آج تک نمایاں مقام حاصل رہا ہے ۔سیاست سے لے کر سیاست دانوں کی پسندیدگی اور نا پسندیدگی کا تھرما میٹربھی یہیں نصب ہے ۔کون کتنا مقبول ہے ؟کس کا کس سے نیا پھڈا ہوا ہے؟انتظامیہ کس گروپ کا ساتھ دے رہی ہے؟پولیس پر کس کا ہولڈ ہے؟ملکی معاملات سے لے کر ضلعی سیاست تک ہر ایشو پر ہر طرح کے بے لاگ تبصرے آپ کو اسی کچہری میں سننے کو ملیں گے۔
ضلع میانوالی میں پہلے جج کی با قاعدہ تعیناتی 12 جنوری 1913ءکو عمل میں آئی ۔ پہلے جج رائے بہادر چونی لال تھے جو 8نومبر 1914ءتک تعینات رہے میانوالی کی عدالت میں پہلے مسلمان جج خان بہادر غفار خان تھے جو 9نومبر 1914ءسے 11اپریل 1915 ءتک تعینات رہے ۔قیام پاکستان سے پہلے آخری انگریز جج کا نام اے ایل فیلچر تھا جو کہ 11جولائی 1944ءسے 11مئی 1947ءتک تعینات رہے ۔
قیام پاکستان کے بعد پہلے مسلمان جج محمد عبدالطیف تھے جو 5دسمبر 1947ءسے 26جنوری 1948ءتک اپنے فرائض منصبی سر انجام دیتے رہے ۔ 1913 ءسے لیکر 1947ءتک میانوالی ڈسٹرکٹ کورٹس میں کل 28جج تعینات رہے جن میں سے آٹھ مسلمان جبکہ بیس جج انگریز ، ہندو اور سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے ۔1947ءسے 2008ءتک کل 39جج میانوالی میں تعینات رہے اس وقت جج صاحبان کی کل منظور شدہ آسامیاں 18ہیں جن میں ایک سیشن جج ،12سول جج اور چھ ایڈیشنل سول جج شامل ہیں ۔ ہائی کورٹ کی صوابدید پر ججز کی تعداد میں کمی بیشی کی جا سکتی ہے یہ کیسوں کی تعداد پر منحصر ہوتا ہے ۔
ڈسٹرکٹ کورٹس کی عمارت 1922ءمیں تعمیر ہوئی جبکہ سیشن جج کی رہائش گاہ 1875 ءمیں تعمیر کی گئی تھی 1913 ءمیں باقاعدہ جج کی تعیناتی سے پہلے جج صاحب اٹک سے تشریف لاتے اور کیسوں کی سماعت کے لیے کیمپ لگایا جاتا ۔ لہذا جج صاحب کی رہائش گاہ اسی مقصد کے لیے تعمیر کی گئی تھی ۔میانوالی جو ڈیشنل کالونی کی تعمیر-99 1998ءمیں مکمل ہوئی ۔
ضلع میانوالی کے پہلے مقامی جج ملک احمد یار خان اسڑ تھے جو کہ 1876ءمیں ہرنولی میں پیدا ہوئے۔
ابتدائی تعلیم ہرنولی ، پپلاں اور میٹرک ڈیرہ غازی خان سے کیا1897ئ میں ایف سی کالج سے بی اے کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا ۔ 1-11-1897کو میانوالی میں اے سی تعینات ہوئے کچھ عرصہ کے لیے ڈیرہ غازی خان میں ٹیچر رہے ۔ 1899ءمیں مقابلے کا امتحان پاس کیا اور بطور ایڈیشنل جج چکوال تعینات ہوئے اور 1936ءمیں شہید کر دیے گئے آپ نے قرآن پاک اپنے ہاتھوں سے لکھا جو کہ مسجد نبوی کی لائبریری میں موجود ہے آپ میانوالی کے پہلے گریجویٹ بھی تھے ۔ ہندی ،عربی ،فارسی ،انگریزی ،اردو اور پنجابی پر عبورحاصل تھا ۔ پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں جنرل پرویز مشرف کی جانب سے صدارتی ریفرینس کے ذریعے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کو معزول کرنے کے بعد وکلاءنے ملک بھر میں احتجاجی تحریک کا آغاز کیا ۔ملک میں ایمر جنسی نافذ کی گئی ،ججوں کو پابند سلال کیا گیا ۔ساٹھ ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا ۔ لاہور ڈسٹرکٹ کورٹس میں وکلاءکے چیمبر میں ڈاکٹر شیر افگن اور وکلاءکے درمیان ایک نا خوشگوار واقعہ پیش آیا جس کے بعد میانوالی میں بار روم اور وکلاءکے چیمبر کو نذر آتش کر دیا گیا ۔ اس واقعہ کے بعد ضلع بھر میں صورتحال کشیدہ رہی۔بعد میں اس واقعہ پر انعام اللہ خان نیازی اورڈاکٹر شیر افگن خان کے درمیان صلح بھی ہوئی۔ میانوالی بار کا قیام 1948ءمیں عمل میں آیا ۔ محمد اسلم خان سنبل بار کے پیلے صدر تھے

%d bloggers like this: